#Low, #food, #benefits, #related, #physical, #health,

جسمانی صحت کے تعلق سے کم کھانے کے فائدے

جسمانی صحت کے تعلق سے کم کھانے کے فائدے
انکساری پیدا ہوتی ہے، نفسانی خواہشات کمزور پڑتی ہیں، غصہ کم ہوتا ہے

ترتیب و اضافہ: عبدالعزیز

’’حضرت مقدام بن معدیکربؓ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: ابن آدم نے پیٹ سے زیادہ برا کوئی برتن نہیں بھرا۔ ابن آدم کیلئے تو چند چھوٹے لقمے کافی ہیں جو اس کی ریڑھ کی ہڈی کو سیدھا رکھ سکیں، اگر (اس سے زیادہ) ناگزیر ہی ہے تو پھر (اتنا تو ضرور کرے کہ پیٹ کا) ایک تہائی حصہ کھانے کیلئے، ایک تہائی حصہ پانی کیلئے اور ایک تہائی (خالی) حصہ سانس کیلئے۔‘‘ (ترمذی)
حافظ ابن رجبؒ نے اس حدیث کی تشریح کرتے ہوئے ابو القاسم بغوی کا قول نقل کیا ہے کہ اس حدیث کا پس منظر یہ ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ نے خیبر فتح کیا تو وہاں کی سر سبز و شاداب زمین میں پھلوں کی کثرت تھی، لوگوں نے خوب پھل کھائے جس سے انہیں بخار آگیا تب انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے شکایت کی تو آپؐ نے فرماما کہ: بخار موت کا ہر اول، زمین میں اللہ تعالیٰ کی قید اور آگ کا ایک ٹکڑا ہے جب بخار آئے تو شنان میں پانی ٹھنڈا کرکے (مغرب و عشاء کی) نمازوں کے درمیان اپنے بدن پر ڈالو۔ ان لوگوں نے ایسا ہی کیا اور بخار چلا گیا تب آپ نے یہ حدیث بیان فرمائی۔
یہ حدیث جسمانی صحت کیلئے طبی اصولوں کی جامع ہے۔
مشہور پارسی طبیب ابن ابی ماسویہ کے بارے میں آتا ہے کہ جب اس نے ابو خیثمہ کی کتاب میں یہ حدیث پڑھی تو کہا: اگر لوگ ان باتوں پر عمل کریں تو بیماریوں سے محفوظ ہو جائیں اور اسپتال اور دواؤں کی دکانیں ویران ہو جائیں۔
مشہور عرب طبیب حارث بن کلدہ کا قول ہے کہ انسانوں اور جانوروں کو ہلاک کرنے والی چیز ایک کھانے کے ہضم ہونے سے پہلے دوسرا کھانا کھانا ہے۔
کسی بزرگ کا قول ہے کہ اگر قبر والوں سے پوچھا جائے کہ تمہاری موت کا سبب کیا تھا تو وہ یہی بتائیں گے کہ زیادہ کھانا۔
جسمانی صحت کے تعلق سے کم کھانے کے اتنے فائدے ہیں!
اور جہاں تک کم کھانے کے روحانی فائدوں یعنی دل و دماغ کی سلامت روی کا تعلق ہے تو وہ بالکل عیاں ہے۔ اس سے دل میں رقت و نرمی پیدا ہوتی ہے، ذہن کو طاقت ملتی ہے، نفس میں انکساری پیدا ہوتی ہے، نفسانی خواہشات کمزور پڑتی ہیں اور غصہ کم ہوتا ہے۔
امام احمدؒ سے پوچھا گیا: کیا پیٹ بھر کھانے سے آدمی اپنے دل میں رقت محسوس کرسکتا ہے؟ انہوں نے جواب دیا: میرے خیال میں: نہیں۔
حضرت عبداللہ بن عمرؓ کے پاس کوئی شخص ہاضمہ کی طاقت بڑھانے والی جوارش لے آیا تو آپ نے پوچھا یہ کیا ہے؟ اس نے بتایا اس سے کھانا ہضم ہوتا ہے۔ آپ نے فرمایا: میں اسے کیا کروں گا میں تو مہینہ بھر میں ایک بار بھی پیٹ بھر کر کھانا نہیں کھاتا۔
ایک روایت میں ہے کہ آپ نے فرمایا: میں جب سے اسلام لایا ہوں، میں پیٹ بھر کر کھانا نہیں کھایا۔
حضرت ابو عبیدہ بن خواصؒ کا قول ہے کہ تمہاری بربادی پیٹ بھر کر کھانے میں اور تمہاری حفاظت بھوکے رہنے میں ہے۔ اگر تم نے سیر ہو کر کھا لیا تو طبیعت بوجھل ہوجائے گی اور سو جاؤ گے دشمن تم پر موقع پاکر حملہ آور ہو جائے گا اور اگر بھوکے پیٹ رہے تو تم خود دشمن کی گھات میں رہوگے۔
حضرت ابو سلیمان دارانیؒ کہتے ہیں: اگر تمہیں دنیا و آخرت کی کوئی ضرورت درپیش ہو تو پہلے اسے پورا کر لو پھر کھانا کھاؤ کیونکہ کھانے کے ساتھ عقل کا تعلق باقی نہیں رہتا۔
حضرت مالک بن دینارؒ فرماتے ہیں: مومن کو سب سے زیادہ فکر اپنے پیٹ کی نہیں ہونی چاہئے نہ یہ کہ اس کی شہوت غالب رہے۔
حضرت حسن بن عبدالرحمن نے حضرت حسن بصریؒ یا کسی اور بزرگ کا قول نقل کیا ہے کہ حضرت آدمؑ کی مصیبت کھانے کی وجہ سے آئی اور قیامت تک ان کی اولاد کیلئے بھی کھانا آزمائش کا سبب بنا رہے گا۔ پہلے کہا جاتا تھا جس نے اپنے پیٹ پر قابو رکھا اس نے تمام نیک اعمال پر اختیار رکھا۔
یہ بھی کہا جاتا ہے حکمت و دانش بھرے پیٹ میں سکونت اختیار نہیں کرتی۔ حضرت عبد العزیز بن ابو داؤدؒ کا قول ہے ایک تہائی پیٹ نیک کاموں میں مدد گار ثابت ہوتا ہے۔
حضرت ابو عمران جوتیؒ سے منقول ہے کہ پہلے کہا جاتا تھا کہ جو اپنا قلب منور کرنا چاہے وہ اپنا کھانا کم کرے۔
حضرت حسن بصریؒ کے کسی ساتھی کے سامنے کھانا پیش کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ میں اتنا کھا چکا ہوں کہ اب کھا ہی نہیں سکتا۔ حضرت حسنؒ نے کہا: سبحان اللہ! مسلمان اتنا نہیں کھایا کرتا کہ پھر کھانے کی گنجائش نہ رہ جائے۔
عثمان بن زائدہ کہتے ہیں کہ مجھے حضرت سفیان ثوریؒ نے لکھا کہ اگر تم اپنا جسم صحت مند رکھنا اور سونا کم کرنا چاہتے ہو تو کھانا کم کھایا کرو۔
ابن سماک کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے اپنے بھائی سے کہا: ہم لوگ اللہ تعالی کے نزدیک اس سے زیادہ حقیر ہیں کہ وہ ہمیں بھوکا رکھے۔ وہ تو اپنے اولیاء کو بھوکا رکھتا ہے۔
عبد اللہ ابن ابو الفرج کہتے ہیں میں نے حضرت ابو سعید تمیمیؒ سے دریافت کیا: کیا خائف آدمی پیٹ بھر کر کھا سکتا ہے؟ انہوں نے کہا: نہیں۔ میں نے عرض کیا: اور جو شوق میں مبتلا ہو؟ فرمایا: نہیں۔
حضرت بشر بن حارثؒ کہتے ہیں کہ میں نے پچاس سال سے پیٹ بھر کھانا نہیں کھایا۔ آدمی کو حلال بھی پیٹ بھر کر کھانا نہیں چاہئے کیونکہ اگر وہ آج حلال سے خوب پیٹ بھر کھائے گا تو کل حرام بھی کھانے لگے گا۔
حضرت ابراہیم بن ادہمؒ کہتے ہیں: جس نے اپنے پیٹ پر کنٹرول کیا اس نے اپنے دین کو قابو میں رکھا اور جس نے بھوک پر اختیار حاصل کیا اس نے اچھے اخلاق پر اختیار حاصل کیا۔ خدا کی معصیت بھوکے سے دور رہتی ہے اور پیٹ بھر کر کھانے والے سے قریب، پیٹ بھر کر کھانا دل کو مردہ کرتا ہے۔
حضرت ثابت بنانیؒ سے منقول ہے کہ ابلیس مردود ایک دن حضرت یحیٰؑ کے پاس پہنچا تو آپ نے اس سے دریافت فرمایا کہ مجھ پر بھی تمہارا کوئی داؤ چلتا ہے؟ اس نے کہا اور تو نہیں البتہ کبھی کبھی آپ پیٹ بھر کر کھانا کھا لیتے ہیں تو میں آپ کی طبیعت بوجھل کر کے اللہ تعالیٰ کے ذکر سے کچھ ذرا سا غافل کر پاتا ہوں۔ آپؑ نے دریافت فرمایا۔ اور کچھ؟ اس نے کہا نہیں۔ حضرت یحیٰ علیہ السلام نے فرمایا اللہ تعالیٰ کی قسم آج کے بعد سے میں کبھی اپنا پیٹ کھانے سے پورا نہیں بھروں گا۔ تب ابلیس مردود نے کہا: خدا کی قسم آج کے بعد میں کسی مسلمان کو خیر خواہی کی کوئی بات نہیں بتاؤں گا۔
حضرت ابو سلیمان دارانیؒ فرماتے ہیں کہ نفس جب بھوکا پیاسا ہوتا ہے تو دل میں صفائی اور نرمی پیدا ہوتی ہے اور کھانے پینے سے سیر ہوتا ہے تو دل اندھا ہو جاتا ہے پیٹ بھر کر کھانا دنیا کی کنجی ہے اور بھوک آخرت کی۔ اور دنیا و آخرت کی ہر بھلائی کی کنجی اللہ تعالیٰ کا خوف ہے۔ اللہ تعالیٰ دنیا تو پسندیدہ و ناپسندیدہ دونوں کو دیتا ہے لیکن حق صرف اپنے خاص پسندیدہ لوگوں کو دیتا ہے۔ میں رات کو کم کھا کر رات بھر عبادت کرنا زیادہ پسند کرتا ہوں۔
حضر احمد بن ابو حواریؒ فرماتے ہیں: بھوک نیکی پر اور پیٹ بھرنا برائی پر آمادہ کرتا ہے۔
حضرت امام شافعیؒ فرماتے ہیں: میں نے سولہ برس سے پیٹ بھر کھانا نہیں کھایا کیونکہ پیٹ بھر کھانا بدن کو بھاری کرتا ہے، نیند لاتا ہے، عبادت میں کمزوری پیدا کرتا ہے اور ذہانت زائل کرتا ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے کم کھانے اور باقی کھانا دوسروں کو کھلانے کی ترغیب دی ہے۔ فرماتے ہیں: ایک آدمی کا کھانا دو کیلئے، دو کا تین کیلئے اور تین کا چار کیلئے کافی ہے۔
اس لئے بہتر یہی ہے کہ مومن ایک تہائی پیٹ کھائے، ایک تہائی پیٹ پانی کیلئے رکھے اور ایک تہائی پیٹ سانس کیلئے خالی رکھے۔
کسی بزرگ کی روایت ہے کہ بنی اسرائیل کے کچھ جوان عبادت میں مشغول رہتے تھے جب کھانے کا وقت آتا تو ایک آدمی انہیں توجہ دلاتا کہ زیادہ نہ کھاؤ ورنہ زیادہ پانی پیوگے پھر زیادہ سوؤگے اس طرح زیادہ گھاٹا اٹھاؤ گے۔
خود رسول اللہ ﷺ اور آپؐ کے صحابہ بہت کم کھانا کھاتے تھے۔ اور کم ہی پانی پیتے تھے۔
کہا جاتا ہے زیادتی ہر چیز کیلئے خرابی کا پیش خیمہ ہوتی ہے (Excess in every thing is bad) فارسی میں مثل مشہور ہے ’’کم خوردن، کم خفتن، کم گفتن علامت صحت است‘‘ (کم کھانا، کم سونا اور کم بات کرنا صحت کی علامت ہے۔) جو لوگ تندرستی کو ہزار نعمت سمجھتے ہیں وہ ہمیشہ اعتدال کی راہ اپناتے ہیں۔ توازن و توافق کا ہر چیز میں خیال رکھتے ہیں۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک غیر مسلم طبیب نے دریافت کیا کہ مدینہ میں لوگ بہت کم بیمار ہوتے ہیں اور طبیب کی ضرورت بہت کم ہوتی ہے آخر کیا وجہ ہے آپؐ نے فرمایا کہ یہاں ایسی قوم بستی ہے جو بھوک لگنے پر ہی دسترخوان کے پاس جاتی ہے او ربھوک باقی رہتی ہے تو دسترخوان سے اپنے ہاتھ کو کھینچ لیتی ہے یہی وجہ ہے کہ لوگ کم بیمار ہوتے ہیں اور دوا خانوں میں جانے کی کم ضرورت پڑتی ہے۔

موبائل: 9831439068 azizabdul03@gmail.com

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں