1

عدالت عظمیٰ نے اتراکھنڈ ہائی کورٹ کے فتویٰ والے فیصلہ پر قد غن لگائی مولانا محمود مدنی نے فیصلے پر اطمینان کا اظہار کیا

نئی دہلی12 اکتوبر (آئی این ایس انڈیا) اتراکھنڈ ہائی کورٹ نے 30 اگست کو ریاست میں ہر طرح کے فتوی پر روک لگا دی تھی۔ ہائی کورٹ نے مذہبی اداروں، تنظیموں، پنچایتوں، مقامی پنچایتوں اور عوامی گروپوں کی جانب سے فتوی جاری کرنے پر پابندی لگایا تھا۔ کورٹ نے فتوے کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے اسے بنیادی حقوق کے خلاف قرار دیا تھا۔ سپریم کورٹ نے ہائی کورٹ کے اس فیصلے پر فی الحال روک لگا دی ہے، وہیں درخواست گزاروں کو نوٹس جاری کر جواب مانگا ہے ۔ دراصل نگراں چیف جسٹس راجیو شرما اور جسٹس شرد کمار شرما کے بنچ نے یہ پابندی ہردوار کے ایک گاؤں میں نابالغہ سے ریپ کے بعد جاری ہوئے فتوے کے بعد لگایا تھا۔ نابالغہ کی جنسی زیادتی کے بعد حاملہ ہونے اور دبنگوں کے خلاف منہ کھولنے پر پنچایت نے متاثرہ کو گاؤں سے باہر کرنے کا فتوی جاری کیا تھا۔ کورٹ نے پنچایت کے فتوے جاری کرنے کو سنگین تصور کیا ور کہا کہ متاثرہ کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کرنے کے بجائے خاندان کو گاؤں سے باہر نکلنے کا راستہ دکھایا جا رہا ہے۔ ملک کی سب سے بڑی عدالت سپریم کورٹ نے فتوی پر پابندی سے متعلق اتراکھنڈ کے فیصلے پر اسٹے کا حکم جاری کیا ہے ۔سپریم کورٹ کی بنچ نے یہ فیصلہ جمعیۃ علماء ہند کے جنرل سکریٹری مولانا محمود مدنی کی عرضی کو قبول کرتے ہوئے دیا ہے ۔ واضح ہو کہ امسال ۳۰؍اگست کو اتراکھنڈ ہائی کورٹ کے اس حیرت انگیز فرمان کے بعد پورے ملک میں بے چینی محسوس کی جارہی تھی ۔اس امتناعی فرمان سے ملک میں موجود ہزاروں کی تعداد میں دارالافتاء اور مذہبی ادارے کے متاثر ہونے کا خطرہ محسوس کیا جارہا تھا۔معاملے کی سنجیدگی کے مدنظر 4؍ستمبر کو جمعیۃ علماء ہند نے مذکورہ فیصلہ کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا جس کی سماعت آج ہوئی ۔جمعیۃ علماء ہند کی طرف سے عدالت میں ایڈوکیٹ راجو رام چندرن، ایڈوکیٹ شکیل احمدسید،ایڈوکیٹ نیاز احمد فاروقی ، ایڈوکیٹ طیب خاں، ایڈوکیٹ مجیب الدین خاں،ایڈوکیٹ عظمی جمیل، ایڈوکیٹ پرویز دباس پیش ہوئے ۔ سینئر وکیل راجو رام چندر ن نے عدالت میں استدلال کیا کہ ہائی کورٹ کا فیصلہ دستو ر ہند کی دفعہ 26اور وشوا لوچن مدان کیس بنام حکومت ہند میں بذات خود سپریم کورٹ کے فیصلے کی شدید خلاف ورزی ہے ۔ دستور ہند کی دفعہ 26(B) میں ہر ایک کو اپنے مذہبی مسائل میں خود کے انتظام کا حق دیا گیا ہے،لہذا اسے کوئی بھی عدالت ختم نہیں کرسکتی ۔نیز دستورکی دفعہ 141یہ واضح کرتی ہے کہ کسی عدالت کو سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف فیصلے دینے کا حق نہیں ہے ۔ اس بات کی بھی شکایت کی کہ ہائی کورٹ نے لشکر پنچایت کے فرمان کو ’فتوی‘سمجھنے کی غلطی کی ہے اور اس سلسلے میں صرف ہندی کے ایک اخبار کو بنیاد بنا کر فیصلہ دے دیا گیا۔حالاں کہ اخبار کے مطالعے سے یہ ظاہر ہوتاہے کہ وہ محض پنچایتی فرمان ہے اور اس کا فتوی سے دور دور تک تعلق نہیں ہے ۔ یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ فتوی کسی پنچایت سے نہیں بلکہ دارالافتاء یا کسی اہل مفتی کے ذریعہ ہی دیا جاتاہے اور اس کی حیثیت صرف پوچھنے والے کی شرعی مسئلہ پر رہ نمائی تک محدود ہے۔عرضی گزار اورجمعیۃ علماء ہند کے جنرل سکریٹر ی مولانا محمود مدنی نے اسٹے ملنے پر اطمینان کا اظہار کیا اور کہا کہ ملک کے کونے کونے میں دارالافتاء دینی رہ نمائی کا فریضہ انجام دے رہیں۔وہ صرف سائل کے جواب میں مذہبی رہ نمائی کرتے ہیں ۔ یہ بات صاف طور پر سمجھ لینی چاہیے کہ فتوی کوئی فرمان نہیں ہے ۔انھوں نے عدالت کا شکریہ ادا کیا کہ انھوں نے موقع کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے فوری اسٹے کا حکم جاری کیا ہے ۔ امیدہے کہ عدالت مثبت اور تعمیر فیصلہ سنائے گی ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں