1

نام نہاد پرنس یعقوب کازعفرانی اشارہ پر نیا شگوفہ: ایودھیا میں مندر بنا تو پہلی سونے کی اینٹ رکھیں گے

نام نہاد پرنس یعقوب کازعفرانی اشارہ پر نیا شگوفہ:
ایودھیا میں مندر بنا تو پہلی سونے کی اینٹ رکھیں گے

گورکھ پور / نئی دہلی 12 اکتوبر (آئی این ایس انڈیا) مغلیہ خاندان سے مبینہ طور پر رشتہ کا اظہار کرنے والے ناعاقبت اندیش اور اراضی بابری مسجد کے لیے منافقانہ کردرا ادا کرنے والے نام نہاد پرنس یعقوب حبیب الدین طوسی نے ایودھیا میںرام مندر کی تعمیر کی وکالت کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس کی تعمیر پر ہندو-مسلمان کا کوئی تنازعہ نہیں ہے۔ سیاستدان اس پر بے وجہ سیاست کر رہے ہیں۔ وہ صدر جمہوریہ کے پاس جاکر ایودھیا میں رام مندر کی تعمیر کی وکالت کریں گے۔انہوں نے کہا کہ وہ کل دہلی سے چرک پانی مہاراج کی قیادت میں رتھ یاترا لے کر مختلف شہروں سے ہوتے ہوئے ایودھیا پہنچیں گے اور وہاں مندر کی تعمیر کی بات پیش کریں گے۔انہوں نے کہا کہ ایودھیا میں رام کا مندر بنے گا، تو پہلی سونے کی اینٹوں وہ رکھیں گے۔پرنس یعقوب نے کہا کہ ہم نے سپریم کورٹ میں پٹیشن دائر کی تھی؛ لیکن سپریم کورٹ نے اسے متنازعہ ڈھانچہ بولا ہے۔ وہاں پر نہ مندر کا مسئلہ ہے اور نہ مسجد کا۔ وہاں پر زمین کا مسئلہ ہے۔ ٹائٹل سوٹ کے مطابق یہ زمین ’’بابر‘‘ کے ہاتھ سے نکل رہی ہے۔ اس صورت میں ہم نے صدر جمہوریہ سے وقت مانگا ہے؛ کیونکہ صدر کو یہ اختیار ہوتا ہے کہ جو معاملہ عدالت میں چل رہا ہے، اس پر وہ کورٹ کو ہدایات دے سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ کے شہر میں ہم پیغام نہیں چیلنج دینے آئے ہیں۔ کیونکہ ہم 2 سال سے وقت مانگ رہے ہیں ان کے ہم بڑے فالوور بھی ہیں۔ ملک اور قوم کے لئے وہ بہت اچھے ہیں۔ یوگی نے اس کے پہلے بیان دیا تھا کہ وہاں پررام مندربنائیں گے اور پھر کہا کہ یہ معاملہ سپریم کورٹ میں ہے۔ تو میں کہہ رہا ہوں کہ میں سپریم کورٹ میں این او سی دینے کے لئے تیار ہوں ۔ متنازعہ ڈھانچہ گرانے کے بعد وہ سامنے اس لیے نہیں آئے کیونکہ وہ اس مسئلے میں نہیں پڑنا چاہتے تھے؛ لیکن دن بہ دن حالت خراب ہوتے جا رہے ہیں۔ 2019 کے بعد 2024 میں بھی یہ مسئلہ ختم نہیں ہوگا۔ ہندو مسلمان کی نئی نسل کے دلوں میں نفرت پیدا ہو رہی ہے؛لہٰذا وہ چاہتے ہیں کہ یہ مسئلہ جلد سے جلد ختم ہو۔

کیٹاگری میں : هوم

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں