1

راہل شرما نامی ملزم کو ممبئی ہائی کورٹ نے ضمانت پر رہا کرنے کا حکم جاری کیا جمعیۃ علما ء نے انسانی بنیادوں پر ملزم کو قانونی امدادفراہم کی: گلزاراعظمی

راہل شرما نامی ملزم کو ممبئی ہائی کورٹ نے ضمانت پر رہا کرنے کا حکم جاری کیا
جمعیۃ علما ء نے انسانی بنیادوں پر ملزم کو قانونی امدادفراہم کی: گلزاراعظمی
ممبئی،11؍ اکتوبر (آئی این ایس انڈیا)بچہ اغوا کرنے کے جرم میں سات سال قید بامشقت کی سزاء پانے والے ایک ملزم کو آج ممبئی ہائی کورٹ نے مشروط ضمانت پررہا کیئے جانے کے احکامات جاری کیئے۔ممبئی ہائی کورٹ کے جسٹس بدر کے سامنے آج ملزم کی سزاء کے خلاف اپیل اور ضمانت پر رہائی کی درخواست پر سماعت عمل میںآئی جس کے دوران ملزم کو انسانی بنیادوں پر قانونی امداد فراہم کرنے والی تنظیم جمعیۃ علماء مہاراشٹر (ارشد مدنی) کی جانب سے ایڈوکیٹ ہیتالی سیٹھ نے عدالت کو بتایا کہ ملزم کو نچلی عدالت نے سات سال قید بامشقت کی سزاء سنائی ہے جبکہ ملزم ابتک چار سال جیل میں گذار چکا ہے لہذا اسے ضمانت پر رہا کیا جا چاہئے۔ حالانکہ سرکاری وکیل ایس وی گوندنے ملزم کی ضمانت عرضداشت کی مخالفت کرتے ہوئے اپیل پر سنوائی کیئے جانے کی گذارش کی۔جسٹس بدر نے دفاعی وکیل کی بحث سے اتفاق کرتے ہوئے ملزم راہول اشوک شرما کو ۱۵؍ ہزار کے ذاتی مچلکہ پر ضمانت پر رہا کیئے جانے کے احکامات جاری کیئے۔جمعیۃ علماء مہاراشٹر قانونی امداد کمیٹی کے سربراہ گلزار اعظمی نے کہا کہ اس مقدمہ کی دلچسپ حقیقت یہ ہے کہ ملزم راہول شرما کی گرفتاری کے بعد اسے ممبئی کی آرتھرروڈ جیل میں رکھا گیا تھا جہاں اس کی ملاقات دہشت گردی کے جھوٹے مقدمات میں پھنسا دیئے گئے چند ملزمین سے ہوئی جنہوں نے راہل شرما کے مقدمہ کے دستاویزات کا مطالعہ اور راہل شرما سے گفتگو کرنے کے بعد یہ نتیجہ اخذ کیا کہ ملزم کو جبراً پیسہ کے عوض بچہ اغوا کرنے کے الزامات کے تحت گرفتار کیا گیا ہے جس کے بعد انہوں نے جیل سے جمعیۃ کے نام خط ارسال کرکے انہیں راہل شرما کو انسانی بنیادوں پرقانونی امد اد فراہم کیئے جانے کی گذارش کی تھی۔گلزاراعظمی نے کہاہے کہ ملزم کی درخواست موصول ہونے کے بعد ایڈوکیٹ شریف شیخ کو ملزم کے مقدمہ کی پیروی کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی جنہوں نے سیشن عدالت کے سامنے ایسے حقائق پیش کیئے جس سے عدالت کو مطئین ہونا پڑا اورملزم کو عمر قید کی سزا سے بچا لیا گیا لیکن عدالت نے اسے سات سال کی سزاء سنائی تھی جس کے بعد اس کی اپیل ہائی کورٹ میں داخل کی گئی۔ انہوںنے مزید کہا کہ ملزم راہول شرما کو انسانی بنیادوں پر قانونی امدادفراہم کی گئی تھی ۔واضح رہے کہ استغاثہ نے ملزم راہل شرما پر الزام عائد کیا تھا کہ اس نے اس کے ساتھ کام کرنے والی ایک خاتون کو پانچ ہزار روپئے ادھار دیئے تھے اور پیسے واپس نہیںلوٹانے کی صورت میں اس نے اس کے لڑکے کو اسکول سے اغواہ کرلیا تھا اور بعد میں اسے ممبئی کے مختلف مقامات پر لے جاکر خاتون کو فون کرکے اس سے پیسہ کا مطالبہ کرہاتھا لیکن مقدمہ کی سماعت کے دوران استغاثہ عدالت میں ایسا کوئی بھی ثبوت پیش نہیں کرسکا جس سے یہ ثابت ہوتا ہوکہ ملزم نے بچہ کو پیسہ کے عوض اغواکیاتھالیکن عدالت نے ملزم کو بچہ کو اس کے والدین کی اجازت کے بغیر اپنے قبضہ میں رکھنے کے الزامات کے تحت سزا دی تھی جس کے خلاف ممبئی ہائی کورٹ میں اپیل زیر سماعت ہے۔

کیٹاگری میں : هوم

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں