1

مودی اورواجپئی نے قبل از وقت کیوں انتخابات کرائے تھے امت شاہ کے بیان پرٹی آر ایس سخت حملہ

حیدرآباد،11؍ اکتوبر (آئی این ایس انڈیا) تلنگانہ راشٹر سمیتی (ٹی آر ایس) نے جمعرات کو ریاست میں قبل از وقت انتخابات کرانے کے اقدامات پر اس کے سربراہ کے چندر شیکھر راؤ (کے سی آر) پر سوال اٹھانے والے بی جے پی کے قومی صدر امت شاہ پر جوابی حملہ کیا۔ٹی آر ایس نے کہا کہ راؤ نے بالکل ویسا ہی کیا ہے جیسا گجرات کے اس وقت کے وزیراعلیٰ نریندر مودی نے 2002 میں کیا تھا۔کریم نگر میں بی جے پی کی ایک عوامی جلسے میں شاہ نے بدھ کو قائم مقام وزیراعلیٰ راؤ پر نشانہ لگاتے ہوئے کہا تھا کہ انہوں نے ریاست کے عوام پر کروڑوں روپے کے اضافی انتخابات خرچ کا بوجھ ڈالاہے کیونکہ عام حالات میں اس ریاست میں اسمبلی انتخابات اگلے سال اپریل مئی میں لوک سبھا انتخابات کے ساتھ ہونا تھا۔شاہ نے دعویٰ کیاکہ راؤ کا قدم بتاتا ہے کہ وہ مودی سے ڈرے ہوئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اگر ریاست میں اسمبلی انتخابات لوک سبھا انتخابات کے ساتھ ہوتے تو’مودی فیکٹر‘ نے ریاست انتخابات کو متاثر کیا ہوتا۔تلنگانہ میں اسمبلی انتخابات سات دسمبر کو ہونے ہیں۔راؤ کی سفارش پر سات ستمبر کو، وقت سے تقریباًنو ماہ قبل اسمبلی تحلیل کی گئی تھی۔160 کلو میٹر دور واقع کریم نگر سے لوک سبھا رکن بی ونود کمار نے شاہ کو گھیرنے کی کوشش کی۔کمار نے کہا کہ کسی نہ کسی وقت اندرا گاندھی، راجیو گاندھی، اٹل بہاری واجپئی، این ٹی راماراو اور این چندرابابونائیڈو نے قبل از وقت انتخابات کا متبادل اپنایا تھا۔انہوں نے کہاکہ تمام سیاسی جماعتیں کبھی نہ کبھی قبل از وقت انتخابات کرا چکے ہیں۔یہاں تک کہ مودی بھی ۔مودی نے 2002 میں قبل از وقت انتخابات کیوں کرائے تھے؟ پہلے مودی کوجواب دیناچاہیے۔کے سی آر کی طرح انہوں نے بھی 2002 میں طے شدہ وقت سے آٹھ ماہ پہلے انتخابات کرائے تھے۔مودی نے (قبل از وقت انتخابات) کیوں کرائے؟ اس کا جواب کے سی آر کا بھی جواب ہے۔اس بارے میں پوچھے جانے پر کہ سیاسی گلیاروں میں ٹی آر ایس اور بی جے پی کے درمیان خفیہ اتحاد ہونے کی بحث ہے، کمار نے اس بات سے مکمل طور پر انکار کیا۔ انہوں نے کہاکہ بالکل نہیں۔ہمارا بی جے پی یا کانگریس سے کوئی سیاسی اتحاد نہ تو اب ہے اور نہ ہی مستقبل میں ہوگا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں