1

ممبئی لشکر طیبہ معاملہ:ملزمین فیصل مرزا اور اللہ رکھا کو عدالتی تحویل سے پولس تحویل میں بھیجا گیا پولس تحویل میں حاصل کیا گیا اقبالیہ بیان غیر ارادی اور جبراًہوگا،ایڈوکیٹ شریف شیخ

ممبئی لشکر طیبہ معاملہ:ملزمین فیصل مرزا اور اللہ رکھا کو عدالتی تحویل سے پولس تحویل میں بھیجا گیا
پولس تحویل میں حاصل کیا گیا اقبالیہ بیان غیر ارادی اور جبراًہوگا،ایڈوکیٹ شریف شیخ
ممبئی ،12؍ اکتوبر (آئی این ایس انڈیا)پاکستانی ممنوع تنظیم لشکر طیبہ کے توسط سے ہندوستان میں دہشت گردانہ کارروائیاں انجام دینے کا منصوبہ بنانے کے الزامات کے تحت گرفتار دو مسلم نوجوان فیصل حسام علی مرزا اور اللہ رکھا ابو بکر منصوری کو چارج شیٹ داخل ہونے اور انہیں عدالتی تحویل میں بھیج دیئے جانے کے بعد آج قومی تفتیشی ایجنسی NIAنے مزید تفتیش کے لیئے ان کی پولس تحویل حاصل کرنے کے لیئے NIAعدالت سے رجوع کیا جس کے بعد ملزمین کو یو اے پی اے قانون کے تحت عدالت نے سات دنوں کے لیئے عدالتی تحویل سے پولس تحویل میں دیئے جانے کے احکامات جاری کیئے۔اسی درمیان ملزمین کو قانونی امداد فراہم کرنے والی تنظیم جمعیۃ علماء مہاراشٹر (ارشد مدنی) کے وکیل شریف شیخ نے ملزمین کو مزید پولس تحویل میں دیئے جانے کی سخت لفظوں میںمخالفت کرتے ہوئے خصوصی این آئی اے جج ڈی ای کوٹھلیکر کو بتایا کہ اس معاملے میں ریاستی انسداد دہشت دستہ ATS نے ملزمین سے تفتیش کرنے کے بعد ۱۸؍ اگست کو چارج شیٹ عدالت میں داخل کردی تھی جس کے بعد عدالت نے ملزمین کو عدالتی تحویل میں بھیج دیا تھا ۔ایڈوکیٹ شریف شیخ نے عدالت کا بتایا کہ این آئی اے ملزمین سے آرتھرروڈ جیل میں تفتیش کرسکتی ہے ،ملزمین کو کوئی اعتراض نہیں ہے لیکن عدالتی تحویل سے پولس تحویل میں دیئے جانے پر انہیں سخت اعتراض ہے کیونکہ تفتیش کے نام پر پولس تحویل حاصل کرنے کی این آئی اے نے کوئی خاص وجہ نہیں بتائی ہے ۔ایڈوکیٹ شریف شیخ نے عدالت کو بتایا کہ این آئی اے ملزمین سے مزید تفتیش کیئے جانے کا بہانا بناکر ان کی پولس تحویل حاصل کرکے ان کا اقبالیہ بیان لینا چاہتی ہے تاکہ اس جبراً حاصل کیئے گئے اقبالیہ بیان کی بنیاد پر انہیں سزا مل سکے ۔ایڈوکیٹ شریف شیخ نے NIA عدالت میں ملزمین کی جانب سے ایک عرضداشت داخل کرتے ہوئے عدالت کو بتایا کہ اب جبکہ عدالت نے یو اے پی اے قانون کے تحت ملزمین کو عدالتی تحویل سے پولس تحویل میں دیئے جانے کے احکامات جاری کردیئے ہیں ، ملزمین پولس تحویل میں اقبالیہ بیان نہیں دینا چاہتے اور اگر ملزمین سے اقبالیہ بیان حاصل کیا گیا تو وہ غیر ارادی اور جبراً ہوگا۔ عدالت نے عرضداشت کو اپنے ریکارڈ پر لے لیا اور معاملے کی سماعت ملتوی کردی۔واضح رہے کہ آج صبح این آئی اے کی نمائندگی کرتے ہوئے ایڈوکیٹ آنند سکھدیو نے عدالت سے کہا کہ اے ٹی ایس سے مقدمہ این آئی اے کو سونپے جانے کے بعد سے این آئی اے نے ملزمین سے کوئی تفتیش نہیں کی ہے لہذا انہیں ملزمین سے تفتیش کی اجازت دی جائے اور ملزمین کو ۹؍ دنوں کے لیئے پولس تحویل میں دیا جائے لیکن دفاعی وکلاء کی درخواست کے بعد عدالت نے ملزمین کو سا ت دنوں کے لیئے پولس تحویل میں دیئے جانے کے احکامات جاری کیئے ، جلد ہی این آئی اے کے افسران ملزمین کی آرتھر روڈ جیل سے تحویل حاصل کرکے انہیں این آئی اے کے لاک اپ میں رکھ کر ان سے تفتیش کریں گے اور اس کے بعد اضافی چارج شیٹ عدالت میں داخل کی جائے گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں