1

اسرائیلی دہشت گردی ہنوز بے تکان جاری: اسرائیلی پولیس کی سیکیورٹی میں 71یہودی قبلہ اول میں داخل

اسرائیلی دہشت گردی ہنوز بے تکان جاری:
اسرائیلی پولیس کی سیکیورٹی میں 71یہودی قبلہ اول میں داخل
مقبوضہ بیت المقدس 12اکتوبر ( آئی این ایس انڈیا ) یہودی شرپسندوں کی طرف سے مسلمانوں کے قبلہ اول پر دھاووں اور مقدس مقام کی بے حرمتی کا سلسلہ جاری ہے۔ گذشتہ روز71 یہودی شرپسندوں نے مسجد اقصیٰ میں داخل ہو کر مسلمانوں کے تاریخی مقدس مقام کی بے حرمتی کے اشتعال انگیز اقدام کا ارتکاب کیا۔ اطلاعات کے مطابق گذشتہ روز قبلہ اول پر دھاوے بولنے والے یہودی اشرار میں متعدد یہودی طلباشامل تھے۔ یہودی آباد کار مسجد اقصیٰ کے ’مراکشی دروازے‘ کے راستے صبح اور شام کے اوقات میں اندر داخل ہوتے اور مذہبی رسومات کی ادائی کی ا?ڑ میں قبلہ اول کی بے حرمتی کرتے رہے۔ خیال رہے کہ مسجد اقصیٰ کا باب المغاربہ سنہ 1967کے بعد قابض صہیونیوں کے نرغے میں ہے اور یہودی اسی دروازے کو قبلہ اول میں دھاووں کے لیے استعمال کرتے ہیں۔اس موقع پر اسرائیلی فوج نے اور پولیس نے ا?باد کاروں کو فول پروف سیکیورٹی مہیا کر رکھی تھی۔ مقامی فلسطینی ذرائع کا کہنا ہے کہ کل بدھ کو قبلہ اول پر دھاوے بولنے والے ا?باد کاروں میں مذہبی پیشوا بھی شامل تھے۔عینی شاہدین نے بتایا کہ یہودی آباد کاروں نے مسجد میں گھس کر مذہبی رسومات کی ادائی میں اشتعال انگیز حرکات کا ارتکاب کیا۔ اس موقع پر یہودی عورتیں اور بچے بھی مسجد میں داخل ہوئے ، جنہیں پولیس کی طرف سے فول پروف سیکیورٹی مہیا کی گئی تھی۔ یہودی آباد کاروں کے تازہ دھاوے ایک ایسے وقت میں مارے جا رہے ہیں جب اسرائیلی انتظامیہ نے یہودی آباد کاروں کے لیے دن میں دو بار مسجد اقصیٰ میں داخل ہونے کی اجازت دے رکھی ہے۔ یہودی شرپسند تین گھنٹے صبح اور تین گھنٹے شام کو مسلمانوں کے قبلہ اول میں داخل ہوکر مذہبی رسومات کی ادائی کی آڑ میں مقدس مقام کی بے حرمتی کرتے ہیں۔یہودی آباد کاروں کے ہمراہ ان کے مذہبی پیشوا اور ربی بھی موجود تھے جنہوں نے قبلہ اول میں داخل ہونے کے بعد وہاں پر مزعومہ ہیکل سلیمانی پر روشنی ڈالی اور یہودیوں کو تاکید کہ وہ مذہبی تعلیمات پرعمل پیرا رہتے ہوئے ہیکل سلیمانی کے قیام کے لیے کوششیں جاری رکھیں۔بعض فلسطینی شہریوں کے شناختی کارڈ ضبط کرلیے گئے اور انہیں مسجد اقصیٰ میں نماز کی ادائی سے روک دیا گیا۔یہودیوں کی مسجد اقصیٰ میں آمد کے موقع فلسطینی نمازیوں کی بڑی تعداد بھی پہنچ گئی تھی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں