1

بڑھتے کرائم بھاجپائی سرکا رکی ناکامی کا باعث! چودھری مظفر علی

بڑھتے کرائم بھاجپائی سرکا رکی ناکامی کا باعث! چودھری مظفر علی

سہارنپور12؍اکٹوبر(الہلال میڈیا/احمد رضا سہارنپور ) گزشتہ ایک سال سے مغربی اتر پردیش میں مسلسل بڑھتے کرائم کے اہم اور قابل تشویش ایشو پر آج اخبارنویسوں سے گفتگو کرتے ہوئے سینئر کانگریسی رہنما چودھری مظفر علی نے کہا ہے کہ پچھلی سرکار کو بدنام کرنیوالی بھاجپا سرکار جان بوجھ کر جرائم کو چھپارہی ہے کانگریسی رہنما نے بیخوف بتایاکہ آج کمشنری میں جرائم اور جرائم پیشہ افراد کی باڑھ سی آگئی ہے سرکار جرائم کو قابو کرنے میں ناکام بنی ہوئی ہے ایمانداری سے پولیس افسران کو کام ہی نہی کرنے دیاجارہاہے پولیس کو سختی کرنے اور محکمہ میں موجود بد عنوان اسٹاف کوبھی نہی ہٹایاجارہاہے س آپنے کہا ہے کہ مغربی اضلاع سہارنپور ، میرٹھ ، شاملی اور مظفر نگر اور بجنورکے درجن بھر علاقوں میںدو ماہ کے دوران قریب قریب تین درجن سے زائد ڈکیتی، آپسی مارپیٹ، قتل، نسلی تشدد،فرقہ وارانہ جھڑپ اور لوٹ پاٹ اور چھوٹی بڑی چوریوں کی سنسنی خیز وارداتیںانجام دی جاچکی ہیں مگر چاہتے ہوئے بھی ابھی تک پولیس ان واردات میں شامل اصل ملزمان، مافیائوں، دنگائیوں اور لٹیروں کو گرفتارتک نہی کرسکی ہے جس وجہ ریاست کی قانونیدیواریں چرمرانے لگی ہیں اور سرکار تماشائی بنی ہے!
سینئر کانگریسی رہنما چودھری مظفر علی نے کہا ہے کہ آپکو بتادیں کہ ویسٹ اتر پردیش کے چند اضلاع میں دوماہ کے دوران ڈاکہ ، لوٹ اور قتل کی وارداتیںرونما ہونے سے علاقہ کے عوام میں کافی غصہ اور دہشت پھیلی ہوئی ہے پچھلے بیس دنوں کی ڈکیتی، لوٹ اور قاتلانہ حملہ کی وارداتوں نے تو عوام کے خوف میںمزید اضافہ کر دیاہے اس طرح کے سخت حالات دیکھنے کے باوجود بھی سیاسی عہدے داران اپنی مفادپرستی کت باعث تماشائی بنے ہیں دوسری جانب پولیس کو مکمل کام کرنیکی آزادی نہی ملنے کے نتیجہ میں جرائم پر جرائم ہوتے جارہے ہیں پولیس مجر مانہ ذہنیت رکھنے والے افراد پر ہاتھ ڈالنے سے بچنا ہی بہتر سمجھتی ہے سیاسی دخل کی وجہ سے صوبہ کا اعلیٰ پولیس نیٹ ورک آجکل ذہنی طور پر بھاری دبائو میں ہے سرکار تو بدلی ہے مگر افسران کو سہی کام سے روکا جارہاہے اسی لئے کرائم کا گراف لگاتار بڑھتاجارہاہے ! سینئر کانگریسی رہنما چودھری مظفر علی نے کہاہیکہ اگر تفصیل میں جائیں تو معلوم ہوجائیگا کہ گزشتہ چھ ماہ سے ویسٹ یوپی میںلگاتار قاتلانہ حملوں، قتل، فرقہ وارانہ جھڑپوں اور لوٹ پاٹ کی سنسنی خیز وارداتیں عام ہیں مگر سب کچھ دیکھ تے ہوئے بھی پولیس سیاسی دخل کے نتیجہ میں اصل مجرموں کو گرفتار کرنے میں ناکام ہے پولیس بدمعاشوں، قاتلوں اور ڈکیتوں کو قابو کرنے میں اسلئے ناکام نظر آرہی ہیکہ ہر شاطر بدمعاش کا سیاسی آقائوں سے تعلق بناہوا رہتاہے جس وجہ سے اصل ملزمان کو پولیس گرفتار کرنے میں ہچکچاہٹ محسوس کرتی ہے ز
یہ بھی اہم پہلو ہیکہ انکائونٹر میں واہ واہی لو ٹنیوالی یوپی پولیس چھہ ماہ بعد بھی کرائم کے گروہ کا پکڑپانے میں ابھی تک ناکام بنی ہوئی ہے ز ونل آئی جی ( نظم ونسق) ڈی آئی جی اور ہمارے پولیس چیف اپیندر اگروال کی محنت سے ضلع میںکئی بدمعاشوں کو مٹھ بھیڑ میں ماراگیاہے اور بہتوں کو بہ مشکل گرفتار بھی کیا گیاہے مگر اسکے بعد بھی کرائم کنٹرول نہ ہونا تعجب کی بات ہے عام چرچہ یہ بھی ہیکہ کہ چند بااثر بھاجپائی کارکنان کے ذریعہ پولیس کے کام کرنے کے عمل کو غلط سمت دیجارہی ہے چند بھاجپائی اپنی مرضی پولیس پر لادنا چاہتے ہیں جو شاید چند ایماندار افسران کے بس سے باہر ہے بھاجپا سرکار کے وجود میں آجانیکے بعد سے تو ویسٹ یوپی میں جرائم کی باڑھ سے آگئی ہے جرائم پیشہ افراد سیاسی اثرو رثوخ کی بنیاد پر جرائم کرلینیکے بعد بھی بے فکر رہتے ہیں کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ اب انکی سرکار ہے ر !

کیٹاگری میں : هوم

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں