1

امریکا شدید کساد بازاری سے ملکی معیشت کو 50 کھرب ڈالر نقصان کا اندیشہ

واشنگٹن ،11؍اکٹوبر (الہلال میڈیا) بین الاقوامی مالیاتی فنڈ نے متنبہ کیا ہے کہ امریکا میں جاری شدید کساد بازاری کے باعث اس کی معیشت کو 50 کھرب ڈالر نقصان کا اندیشہ ہے جس سے قرضوں اور خسارے میں اضافے کے ساتھ ساتھ حکومت کی مالیاتی پوزیشن کو بھی نقصان ہوگا۔آئی ایم ایف کی جانب سے گزشتہ روز جاری ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق دنیا بھر کی حکومتیں جنھیں اسی قسم کے خطرات کا سامنا ہے لیکن وہ اب بھی اپنی اصل مالی صورتحال (ورتھ) سامنے لانے سے گریز کررہی ہیں، اس سے پالیسی ساز ادارے و شخصیات جو ان مسائل کے حل کی صلاحیت رکھتے ہیں اصل صورتحال سے بے خبر رہتے ہیں ۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حکومتی بیلنس شیٹ میں ٹیکسوں سے حاصل ہونے والی آمدنی اور سرکاری قرضوں کے علاوہ متعدد دوسرے اثاثوں اور واجبات کی تفصیلات ہوتی ہیں جن میں ملازمین کو پنشن کی ادائیگی کی رقم کے ساتھ ساتھ ریاستی ادارے، زمین، قدرتی وسائل بھی شامل ہیں۔لیجر کی دونوں اطراف کا فرق ملک کی اصل ورتھ ہوتی ہے۔عالمی مالیاتی بحران کے اثرات ایک عشرہ گزرنے کے باوجود پبلک ویلتھ پر ابھی تک عیاں ہیں اور مالیاتی بحران سے پہلے کے مقابلے میں اس وقت 17 ترقی یافتہ ممالک کی نیٹ ورتھ میں 11 ٹریلین ڈالر کم ہے۔
ایسے ممالک جو اپنی مالیات کے حوالے سے وسیع نقطہ نظر رکھتے ہیں انھیں کم شرح سود پر قرضے مل سکتے ہیں جس سے ان کی آمدنی میں اضافے کے ساتھ ساتھ وہ خود کو زیادہ لچک دار بنا سکتے ہیں۔لیکن بحالی کو ایک عشرہ گزرنے کے باوجود سات معیشتوں کی اکثریت کی نیٹ ورتھ منفی ہے۔۔چین کی نیٹ ورتھ مجموعی قومی پیداوار کے 8 فیصد تک خراب ہوئی جس کی وجہ مقامی اداروں سے بجٹ کے علاوہ قرضے اور سرکاری اداروں کی مایوس کن کارکردگی ہے۔تاہم امریکا کی نیٹ ورتھ چار دہائیوں سے کمی کا شکار ہے خاص طور پر عالمی مالیاتی بحران کے باعث یہ شدید متاثر ہوئی۔امریکی نیٹ ورتھ 2016 ء سے جی ڈی پی کے منفی 17 فیصد ہے۔امریکا میں جاری کساد بازاری کے باعث سرکاری اثاثوں کی قدر 2020 ء تک مجموعی قومی پیداوار کے 26 فیصد تک کم ہوجائے گی۔بین الاقوامی مالیاتی فنڈ نے گزشتہ روز جاری ہونے والی ایک رپورٹ میں رواں اور آئندہ سال کے لیے عالمی مجموعی قومی پیداوار کی شرح نمو کم ہوکر 3.7 فیصد رہنے کی پیش گوئی کی تھی۔فنڈ نے مستقبل قریب میں بین الاقوامی تجارتی کشیدگی میں اضافے کے ساتھ ساتھ آئندہ سال اور اس کے بعد امریکی اقتصادی شرح نمو میں کمی کا امکان بھی ظاہر کیا ہے۔دوسری جانب ماہرین کا کہنا ہے بین الاقوامی سطح پر بڑھتی تجارتی کشیدگی،امریکی فیڈرل ریزرو کی جانب سے قرضوں پر سود کی شرح میں اضافے اور متعدد دیگر وجوہات کی بناء پر امریکا میں کساد بازاری کے امکانات میں اضافہ ہورہا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں