1

مالیگائوں ٢٠٠٨ء مقدمہ: بھگواء ملزمین پر یو اے پی اے قانون کا اطلاق ہوگا یا نہیں فیصلہ ١٩؍اکتوبر کو آج خصوصی عدالت میں متاثرین کی نمائندگی کرتے ہوئے جمعیۃ کے وکیل شریف شیخ نے بحث کی

مالیگائوں ٢٠٠٨ء مقدمہ: بھگواء ملزمین پر یو اے پی اے قانون کا اطلاق ہوگا یا نہیں فیصلہ ١٩؍اکتوبر کو
آج خصوصی عدالت میں متاثرین کی نمائندگی کرتے ہوئے جمعیۃ کے وکیل شریف شیخ نے بحث کی
ممبئی10اکتوبر(آئی این ایس انڈیا)مالیگائوں ٢٠٠٨ء بم دھماکہ معاملے کے کلیدی ملزم کرنل شریکانت پروہیت ودیگر کی جانب سے یو اے پی اے قانون کے اطلاق کو غیر قانونی بتانے والی عرضداشت پر خصوصی این آئی عدالت میں آج فریقین بشمول متاثرین کی نمائندگی کرنے والے وکیل کی بحث کا اختتام عمل میں آیا جس کے بعد عدالت نے فیصلہ صادر کرنے کے لیئے ١٩؍ اکتوبر کی تاریخ مقرر کی ہے۔آج خصوصی عدالت کے جج وی ایس پڈالکرنے ہندوملزمین کے وکلاء اور این آئی اے کے اسپیشل پبلک پراسیکیوٹر (وکیل استغاثہ) اویناس رسال کی بحث کے اختتام کے بعد جمعیۃ علماء مہاراشٹر (ارشد مدنی) کی جانب سے متاثرین کی نمائندگی کرنے والے وکیل شریف شیخ کو بحث کرنے کی اجازت دی جس کے بعد ایڈوکیٹ شریف شیخ نے عدالت کو بتایا کہ کریمنل پروسیجر کوڈ کی دفعہ 362 کے تحت نچلی عدالت خود کا فیصلہ تبدیل کرنے کی مجاز نہیں ہے کیونکہ گذشتہ برس دسمبر میں اسی عدالت کے جج ایس ڈی ٹیکولے نے یہ فیصلہ صادر کیا تھا کہ ملزمین کے خلاف یو اے پی اے قانون کی دفعات 16 اور 18 کا اطلاق ہوگا اور فرد جرم اسی کے مطابق عائد کی جائے گی ۔ایڈوکیٹ شریف شیخ نے عدالت کو بتایا کہ ملزم کرنل پروہیت و دیگر نے نچلی عدالت کے فیصلہ کو ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا جس کے بعد سپریم کورٹ نے ان کی عرضداشتیں یہ کہتے ہوئے خارج کردی تھی کہ یو اے پی اے قانون کے اطلاق کا فیصلہ نچلی عدالت کریگی حالانکہ نچلی عدالت پہلے اس کا فیصلہ کرچکی ہے لہذا اب سی آر پی سی کی دفعہ 362 کے تحت یہ عدالت فیصلہ تبدیل نہیں کرسکتی ہے اور ملزمین پر یو اے پی اے قانون کے تحت ہی مقدمہ چلنا چاہئے۔ایڈوکیٹ شریف شیخ نے کرنل پروہیت کی جانب سے اٹھائے جانے والے سوالات پر جواب دیتے ہوئے عدالت کو بتایا کہ ملزمین جس خصوصی اجازت نامہ(سینکشن) میں جس خامی کا فائدہ اٹھانا چاہ رہے ہیں انہیں اس کا فائدہ نہیں ملنا چاہئے کیونکہ سپریم کورٹ اور ہائی کورٹوں نے متعدد فیصلوں میں اس بات کا اشارہ دیا ہے کہ سینکشن میں موجود خامیوں کا فیصلہ عدالت کو ٹرائل کے اختتام کے بعد ہی کرنا چاہئے اور اس کا فائدہ ملزمین کو دوران ٹرائل نہیں ملنا چاہئے۔ واضح رہے بھگواء ملزمین کا یہ کہنا ہیکہ این آئی اے نے اس مقدمہ پر جو یو اے پی اے قانون کا اطلاق کیا ہے وہ غیر قانونی ہے کیونکہ یو اے پی اے قانون کے اطلاق کے لیئے حکومت سے حاصل کی جانی والی خصوصی اجازت جسے لیگل ٹرم میں سینکشن کہتے ہیں ناقص ہے لہذا فرد جرم (چارج فریم) کرنے سے قبل اس ایشو کو حل کیا جانا چاہیے۔دوران بحث خصوصی عدالت میں جمعیۃعلماء کی جانب سے ایڈوکیٹ شاہد ندیم،ایڈوکیٹ افضل نواز،ایڈوکیٹ ابھیشک پانڈے، ایڈوکیٹ ہیتالی سیٹھ، ایڈوکیٹ دھارا مہتا و دیگر موجود تھے۔ آج کی عدالتی کارروائی کے اختتام کے بعد متاثرین کو قانونی امداد فراہم کرنے والی تنظیم جمعیۃ علماء مہاراشٹر قانونی امداد کمیٹی کے سربراہ گلزار اعظمی نے کہا کہ مالیگائوں ٢٠٠٨ء بم دھماکہ معاملے کا سامنا کرنے والے ملزمین مقدمہ کی سماعت شروع نہیں ہونا دینا چاہتے اور اسی لیئے وہ روزانہ نت نئے ہتھکنڈے استعمال کرتے ہیں ، وہ کبھی ڈسچارج عرضداشت داخل کردیتے ہیں تو کبھی یو اے پی اے قانون کو چیلنج کرکے عدالت کا قیمتی وقت ضائع کررہے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ آج متاثرین کی جانب سے ایڈوکیٹ شریف شیخ نے عدالت میں مدلل بحث کی ہے اور انہیں امید ہیکہ خصوصی این آئی اے عدالت قانون کی روشنی میں فیصلہ صادر کریگی تاکہ ان بم دھماکوں کے متاثرین کو انصاف مل سکے۔

کیٹاگری میں : هوم

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں