1

حکومت آسام کو ریاست میں رہ رہے گورکھوں کی شہریت کے سلسلے میں وزارت داخلہ کی وضاحت

نئی دہلی10اکتوبر(آئی این ایس انڈیا)وزارت داخلہ نے ریاست آسام میں سکونت پذیر گورکھا برادری کی شہریت کی نوعیت کے سلسلے میں حکومت آسام کے نام ایک وضاحت، غیر ملکیوں سے متعلق ایکٹ مجریہ 1946 کے بموجب جاری کی ہے۔ یہ وضاحت وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ کے نام حال ہی میں آل آسام گورکھا اسٹوڈنٹ یونین کی جانب سے موصول ہوئی ایک نمائندگی کے سلسلے میں جاری کی گئی ہے۔اس سے پہلے آسام میں سکونت پذیر گورکھا برادری کے چندر اراکین کے معاملات کو غیر ملکیوں سے متعلق خصوصی عدالت کی سماعت کے لیے ارسال کیاگیاتھا۔حکومت آسام کے نام اپنے مراسلے میں وزارت داخلہ نے بھارتی شہریت کے سلسلے میں گورکھا برادری کے لوگوں کو درپیش مسائل سے متعلق مختلف النوع تجاویز کی فہرست ارسال کی ہے۔مؤرخہ24ستمبر2018 کے مراسلے میں کہا گیا ہے کہ گورکھا برادری کے وہ اراکین ، جو آئین کے نفاذ کے وقت بھارتی شہری تھے یا وہ اراکین جو پیدائش سے بھارتی شہری ہیں یا ایسے دونوں زمروں کے اراکین جنہوں نے رجسٹریشن یا شہریت ایکٹ 1955 کے تحت فراہم شدہ تجاویز کے مطابق شہریت حاصل کر لی ہے، انہیں غیر ملکیوں سے متعلق ایکٹ مجریہ 1946 کی دفعہ 2(اے) کے تحت غیر ملکی نہیں کہا جا سکتا اور غیر ملکیوں کے رجسٹریشن سے متعلق ایکٹ 1939 کے تحت بھی ایسا نہیں کہا جا سکتا۔ لہذا اس طرح کے معاملات کو غیر ملکیوں سے متعلق خصوصی عدالت کے حوالے نہیں کیا جائے گا۔مراسلے میں مزید وضاحت کرتے ہوئے کہاگیا ہے کہ گورکھا برادری کا کوئی بھی رکن جسے نیپال کی شہریت حاصل ہواور جو زمینی یا فضائی راستے سے نیپال کی سرحد پار کر کے خواہ بغیر پاسپورٹ یا ویزا کے بھارت آیا ہو اور بھارت میں کسی بھی تاریخ سے سکونت پذیر ہو، اسے اس صورت میں ہر گز غیر قانونی نقل مکانی کر کے آیا ہوا شہری نہیں کہا جا سکتا۔ اگر اس کے پاس نیپال کا پاسپورٹ، نیپال کی شہریت کا سرٹیفکیٹ، نیپال کے انتخابی کمیشن کے ذریعے جاری کیا گیا ووٹر شناختی کارڈ ، بھارت میں قائم نیپالی مشن کے ذریعے جاری تصدیق شدہ محدود ویلیڈیٹی والا فوٹو شناختی کارڈ ہو اور اس طرح کی کوئی سند پیش کرنا ضروری ہو۔ 10سے 18 برس کی عمر کے ایسے بچوں کے لئے جو والدین کے ساتھ معقول سفری دستاویزات کے ساتھ آئے ہوں، ان کے لئے اسکول کے پرنسپل کے ذریعے جاری کردہ فوٹوشناختی کارڈ بھی قابل قبول ہوگا۔ 10برس سے کم کی عمر کے بچوں کے لئے کسی طرح کی دستاویز درکار نہیں ہوگی۔ اس مراسلے میں 1950 میں دستخط ہوئے بھارت-نیپال معاہدے کے تجاویز کا بھی ذکر ہے۔مراسلے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ متذکرہ پیمانے کے تحت آنے والے گورکھا برادری کے اراکین کے معاملات کو غیر ملکیوں سے متعلق خصوصی عدالتوں کو، عدالتوں کی رائے حاصل کرنے کے لئے ، ان کے حوالے نہیں کیا جانا چاہئے اور نہ یہ جاننے کی ضرورت ہے کہ کیا وہ شخص غیر ملکیوں سے متعلق ایکٹ 1946 کے تحت ایک ‘‘غیر ملکی’’ ہے۔مذکورہ مراسلے میں وضاحت کی گئی ہے کہ صرف وہ افراد، جو مخصوص علاقوں یعنی بنگلہ دیش سمیت دیگر علاقوں سے شہریت (ترمیمی) ایکٹ 1985 کے نفاذ سے فوراً پہلے ریاست آسام میں آئے ہوں، وہ بھارتی شہری نہیں ہیں اور ایسے افراد کے معاملات کو غیر ملکیوں سے متعلق خصوصی عدالتوں کے حوالے کیا جا سکتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں