1

بھارت ماتا کے غدار از:۔مدثراحمد

بھارت ماتا کے غدار
از:۔مدثراحمد
9986437327
وطنِ عزیز ہندوستان کی ترقی،فلاح وبہبودی اور وجود کی خاطر ہندوستانی مسلمانوںنے جنگ آزادی سے پہلے بھی اپنا خون بہایا،جا ن و مال کی قربانیاں دی،اس کے بعد جب ملک آزاد ہوا تب بھی ہندوستانی مسلمانوںنے اس ملک کی ترقی او ر فلاح وبہبودی کیلئے ہر ممکن اپنا تعاون پیش کیا۔ہندوستانی افواج میں جہاں دیگر قومیں اس ملک کیلئے قربانیاں دیتی رہی ہیں،اسی طرح سے مسلمانوںنے بھی اس ملک کی سرزمین کیلئے اپنا خون دیا ہے۔بات چاہے حولدار عبدالحمید کی ہویاپھر کارگل کی جنگ میں شہید ہونے والے113 مسلمانوںکی شہادت کی۔ ہندوستان کو جب بھی ضرورت پڑی اس وقت ہندوستانی مسلمانوںنے اس ملک کی خاطر بڑی سے بڑی قربانی دینے کیلئے اپنے آپ کو پیش کیا۔صرف جنگ کے میدان میں ہی نہیں بلکہ جنگی سازو سامان بنانے کیلئے بھی مسلمانوںکی ایک بڑی تعداد اپنے آپ کو وقف کرچکی ہے،جس میں سے سابق صدر ہندر و میزائل میان کہے جانے والے ڈاکٹر اے پی جے کلام نے تو تاحیات اس ملک کی فوجوںکیلئے جدید ٹیکنالوجی سے آراستہ کرنے کا بیڑا اٹھایا تھا۔انہیں کی بدولت ہندوستان میں راکٹ سسٹم مضبوط ہوا۔ ان سب قربانیوں کے باوجود ہندوستانی مسلمانوں کو ہمیشہ غدارکہاگیا،ملک کا دشمن کہاگیااور ملک سے باہر نکلنے کیلئے دھمکیاں دیتے رہے۔جب کوئی ہندوستانی مسلمان انجانے میں پاکستان کا نام بھی لے لے تو اُسے پاکستانی کہاگیا،داڑھی وٹوپی پہنی تو اسے پاکستان چلے جانے کیلئے کہا۔آج ہندوستان کی افواج میںجس طرح سے پاکستان کیلئے جاسوسی کرنے والوںکی فہرست جاری کی جارہی ہے اس میں اب تک ایک بھی کوئی ایسا فوجی یا افسر پکڑا نہیں گیا جو مسلمان ہے۔جتنے بھی جاسوس پکڑے گئے وہ تمام غیر مسلم رہے ہیں،پھر بھی مسلمانوں کو ہی موردِ الزام ٹھہرایا جاتا ہے اور انہیں ملک کا غدار کہا جاتا ہے ،یہ کونسا انصاف اور ہے کونسی سچائی ہے۔ہندوستانی فوج کے کرنل پروہیت نے تو کھلے عام بم دھماکے کروائے اور ہندوستان کے امن وامان میں خلل ڈالنے کی کوشش کی،ان پر لگے ہوئے الزامات پر سنوائی چل رہی ہے اور وہ دہشت گردوںکی فہرست میں شمارکئے جارہے ہیں۔یہ الگ بات ہے کہ فی الوقت وہ ملزم ہیں،لیکن جتنے بھی اب تک ثبوت ان کے خلاف پیش کئے گئے وہ تمام ثبوت ان پر دہشت گردی سے جڑے ہونے کیلئے کافی ہیں۔ہندوستان میں اب تک کسی بھی مسلمان نے فوج میں رہ کر ہندوستان کے خلاف جاسوسی نہیں کی ہے،یہ بات واضح ہے۔حال ہی میں پکڑے جانے والے نشانت اگروال جن کا تعلق ہندوستانی فوج کے تحقیقی شعبہ سے ہے اور وہ برہموس میزائل کے پرواجیکٹ پر کام کرنے والوںمیں شمارکئے جاتے ہیں،ان پر الزام لگایاگیا ہے کہ انہوںنے برہموس میزائل کی ٹیکنالوجی کو پاکستانی خفیہ ایجنسی کے حوالے کیا ہے۔مگر اب بھی میڈیا میں اس معاملے کو اتنی اہمیت نہیں دی جارہی ہے جتنی کہ کسی مسلمان کے ذریعے سے پاکستان زندہ باد کے نعرے لگانے پر دی جاتی ہے۔مسلمان تو جوش میں آکر پاکستان زندہ باد کے نعرے لگاتے ہونگے،لیکن یہاں ہوش میںرہنے والے کئی لوگ ہندوستان کی فوج کو ہی خطرے میںڈال رہے ہیں اور وہ چند پیسوںکیلئے بھارت ماتا کی حفاظت کاسودا کررہے ہیں۔ پچھلے دو سالوںمیں 6 ایسے فوجی افسروں کو گرفتارکیا گیا جنہوںنے براہ راست پاکستان سے مل کر ہندوستانی افواج کی جاسوسی کی ہے۔لیکن میڈیا انہیں جس طرح کے القاب سے جوڑ رہی ہے وہ افسوسناک بات ہے۔ہندوستان کے مختلف علاقوںمیں سے سینکڑوں مسلم نوجوانوںکو دہشت گردوںکے ساتھ جڑے ہونے کے الزاما میں گرفتارکیا گیا ہے،ان میں سے درجنوں مسلمان تو ایسے جو نہ صرف اعلیٰ تعلیم یافتہ تھے بلکہ انہوںنے ہندوستان کی سالمیت کیلئے کبھی بھی سمجھوتہ نہیں کیا ہے۔آخر ہندوستانی حکومت اور میڈیا کی جانب سے اس دوہرے رویہ پر کیا کہا جائے۔جب کوئی مسلم نوجوان کسی دہشت گردانہ سرگرمی میںملوث ہونے کے الزام میں گرفتارکیا جاتا ہےتو اس کے تعلق سے جو خبریں دی جاتی ہیں اور جس طرح سے انہیںبدنام کردیاجاتا ہے اس کے سبب نہ صرف اُس نوجوان کاجینا محال ہوجاتا ہے بلکہ اس کے اہل خانہ کو بھی خودکشی تک کرنے کی نوبت آجاتی ہے۔وہیں غیر مسلم کبھی اس طرح کے معاملے میں پکڑا جاتا ہےتو اس کے تئیں میڈیا کے الفاظ نرم پڑ جاتے ہیں،حکومت کی تشویش کم ہوجاتی ہے۔غورطلب بات ہے کہ کرناٹک کے بیجاپورضلع کے ایک مسلم نوجوان کو کچھ سال پہلے سیمی سے جڑے رہنے کے الزام میں گرفتارکیاگیا تھا۔یہ معاملہ گذرے دس سال سے زیادہ کاعرصہ بیت چکا ہے،لیکن اس کے اہل خانہ کو اس قدر پریشانیاں اٹھانی پڑرہی ہیں کہ وہ سفرحج کو جانےکیلئے پاسپورٹ بنوانا چاہتے ہیں،لیکن ان کے بیٹے کے الزامات کو دیکھتے ہوئے بزرگ والدین کو پاسپورٹ فراہم کرنے کیلئے بھی محکمہ پولیس تیارنہیں ہے۔نشانت اگروال جیسے ہی سینکڑوں لوگوںکی وجہ سے ہی آج ہندوستان خطرے میں ہے جبکہ ڈاکٹر اے پی جے کلام جیسی شخصیا ت کی وجہ سے آج ہندوستان کا نام روشن ہے۔ہندوستان کے مسلمانوں کو فخر ہونا چاہیے کہ اُن کے بچے بے قصور ملزمین ضرور ہیں لیکن بھارت ماتاکی جئے کہنے والوںکے بچے سیدھے سیدھے بھارت ماتا کے دشمن بن گئے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں